ابنا: آسڑیلیا کےایک جرائم پیشہ شہری جولین اسانش نے ۲۰۰۶ میں اپنے چھ دوستوں کے ساتھ مل کربظاہر بین الاقوامی خفیہ رپورٹس سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی بنیاد رکھی تھی۔حالیہ دنوں میں یعنی اپنے قیام کے چار سال بعد وکی لیکس نےتقریباً اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ خفیہ دستاویزات منتشر کر کے میڈیاکی دنیا نیزعوامی و سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچادیاہے ۔ہم یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ وکی لیکس کی طرف سے جاری کردہ نوّے فیصد انکشافات ان ٹیلی گرامز پر مشتمل ہیں جو امریکی حکومت نے۲۰۰۴ سے ۲۰۱۰تک مختلف امریکی سفارتخانوں کو بھیجے ہیں۔درجہ بندی کے اعتبار سے وکی لیکس کی رپورٹس تین طرح کی ہیں،سیکرٹ،ٹاپ سیکرٹ اور کونفیڈیشنل۔یہ رپورٹس سچ پر مبنی ہیں یا جھوٹ پر یا ان کی کوئی قانونی حیثیت ہے یا نہیں ،یہ بحث اپنی جگہ ضروری ہے لیکن ذرا یہ تو سوچئے کہ کیا کو ئی جرائم پیشہ شخص جو پہلے سے ہی مختلف مقدمات میں حکومت کو مطلوب رہاہو وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر دنیابھر کے خفیہ رازخصوصاًامریکی خفیہ رازحاصل کر سکتا ہے۔۔۔؟ اور پھریہ خفیہ راز اتنی آسانی کے ساتھ اس طرح منظم انداز میں نشربھی کئے جاسکتے ہیں۔۔۔؟اگران سوالات کو اپنے ذہن میں رکھ کر وکی لیکس کے انکشافات کا جائزہ لیاجائے تو مجموعی طور پر ۴ نکات اخذہوتے ہیں:۱۔اسلامی ممالک کوایک دوسرے سے خطرہ ہے ۔۲۔پاکستانی فوج اور سیاستدان سب کرپٹ ہیں۔۳۔دنیا میں امریکہ کا حکم چلتاہے۔۴۔تمام اسلامی ممالک ایک دوسرے کے لئے بھی اور امریکہ کے لئے بھی ناقابل اعتماد ہیں۔ان چار نکات سے وکی لیکس کے مندرجہ زیل دو ہدف نمایاں ہوجاتے ہیں:۱۔عالم اسلام کے درمیان بڑھتی ہوئی وحدت اور ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کے لئےاسلامی ممالک کواور ملت اسلامیہ کو آپس میں بد ظن کیا جائے تاکہ مسلمان باہمی اتحاد اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کےخواب دیکھنے چھوڑ دیں۔۲۔دنیا کو سطحی قسم کی غیر مفید بحثوں میں مشغول کر کے استعمار کے اصلی منصوبوں سے لوگوں کو غافل رکھاجائے۔وکی لیکس سے اخذشدہ مندرجہ بالانکات اور تخمینہ شدہ اہداف کی روشنی میں ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ وکی لیکس کی رپورٹس جھوٹ پر مبنی ہیں بلکہ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خطرناک جھوٹ وہ ہوتا ہے جس میں تھوڑا سا سچ بھی شامل ہو۔ وکی لیکس کی دستاویزات میں خطرناک بات یہ ہے کہ ان دستاویزات میں شامل سچ سے تو ہم سب آشنا ہیں لیکن وہ جھوٹ جس میں یہ سچ ملا ہوا ہے اور وہ جھوٹ جسے چھپانے کے لئے یہ سچ بولاگیاہے ،اس سے ہم سب غافل ہیں۔۔۔بالکل ۱۱ ستمبر کی طرح۔۔۔جی ہاں بالکل۱۱ ستمبر کی طرح۔۔۔جیسے ۱۱ ستمبر کے بعد لوگ افغانستان و عراق میں امریکی مظالم بھول کر پینٹاگون کی تصاویر دیکھنے میں مشغول ہوگئے تھے۔۔۔امریکہ پر بے قراری اور ہمارے حکمرانوں پر کپکپی طاری ہوگئی تھی ۔۔۔میڈیا میں پینٹاگون کے دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔وہی سب کچھ اب پھر ہورہاہے۔۔۔میڈیا میں وکی لیکس کے انکشافات کا دھواں چھایا ہواہے ۔۔۔امریکہ میں ان انکشافات کی وجہ سے بے قراری اور ہمارے حکمرانوں پر حسب عادت کپکپی طاری ہے۔۔۔جبکہ اصل میں پس پردہ کیا ہورہاہے اس کی کسی کو کچھ خبر نہیں ......
بشکریہ از جناب نذر حافی جنہوں نے نہایت اہم نکات کو بنیاد بنا کر وکی لیکس کی نقادی کی ہے۔